Category Archives: طبع شدہ نظمیں

پرندوں سے بھرا آسمان

پرندوں سے بھرا آسمان

میں اس زندگی کا اگلا صفحہ لکھ چکا ہوں
جو کہیں مصلوب کردی گئی ہے
میرا دل ان بچوں کے ساتھ دھڑکتا ہے
جن کے سر کھلے آسمان کے نیچے ننگے ہیں
میں نے اپنے ہاتھوں پر
ان گھروں کے لئے دعائیں لکھی ہیں
جن گھروں کے دروازوں پر خدا دستک نہیں دیتا
میرے وجود کی آہٹ
میرے چہرے کا عکس
روتی آنکھوں سے موتی موتی سمیٹ رہے ہیں
جنگل میں بھٹکتی آوازیں
اور روٹھے ہوئے خوابوں کو ڈھونڈ کر
میں تازہ منڈیروں پررکھ رہا ہوں
میرے اندر پرندوں سے بھرا آسمان ہے
دعاوں سے بھرے
ہاتھ ہیں
جو اندھیری بستیوں میں
روشنی لئے سفر کررہے ہیں

سیا ہ ہاتھ اور جگنو

سیاہ ہاتھ اور جگنو

ظلم کی سیاہ رات کو
اجلا بنانے کی خواہش کرنے والے
شہیدوں کا لہو
دشمن کی آستینوں پر ایک روز
ضرور چمکے گا
ظلم کی زنجیر کو توڑنے کے لئے
جو آوازیں کل نعرہ بنی تھیں
آھنی ہاتھوں نے آج انہیں
سنگلاخ دیواروں کے پیچھے
دھکیل دیا ہے
مگر ایک ایسی نیک ساعت طلوع
ہونے والی ہے
جب ظلم کے یہ سیاہ ہاتھ
اڑنے والے جگنووں
اور بھلادی جانے والی
آوازوں کی بازگشت کو
روک نہیں سکیں گے

کھلونوں کے پھول

کھلونوں کے پھول

وقت کے آئینہ پر
میں اپنا چہرہ دیکھنا چاھتا ہوں
مگر بوڑھے خوابوں کی گرفت میں
سور ج ڈوب گیا ہے
آسمان تک دھول اڑ رہی ہے
تازگی کو ترسا ہوا موسم ہے
دروازہ بےصدا ہے
گرد باد دور تک پھیلا ہے
اب ہم اپنے خوابوں ک
پورا نہیں کرسکتے
مٹی کے کھلونوں پر
رنگ برنگے پھول بناتے ہیں
اور اپنے دکھ خالی لباسوں کے ساتھ
صندوقوں میں بند کردیتے ہیں

روشنیوں سے دور

روشنیوں سے دور

ستاروں کی روشنی سے بہت دور
مردہ زمینوں اور آگ پھونکتی ہواوں کے درمیاں
رقص ابد جاری ہے
کتابوں میں چہرے لکھے جارہے ہیں
اس پر ہول اندھیر ے میں کہیں ایک چیخ ابھرتی ہے
سانسوں کو نچوڑ کر اس پر اینٹ رکھ دی جاتی ہے
یوں ایک سیاہ دیوار
دلوں کے بیچ میں بلند ہوتی ہے
مردہ زمینوں اور آگ پھونکتی ہواوں کے درمیاں
انسانوں کا چہرہ مٹایا جارہا ہے ایسا لگتا ہے
سورج پھٹ جائے گا
اور تیزروشنی اندھیرے کے بستر میں کھو جائے گی
میرے بازوں سے اوپر کوئی دوسرا چہرہ اگ رہا ہے
میرے ہونٹ پکارتے ہیں
مشرق سے مغرب تک سب کچھ ڈوب رہاہے
اب کچھ نہیں بچا
صرف چہرے ہیں
الزام لگاتی انگلیاں
اور گالی دیتے ہوئے لفظ ہیں
جن برتنوں میں ہم نے
موسموں کے پھولوں کا رس جمع کیا تھا
ان کو کتے چاٹتے ہیں
جن وادیوں میں ہم نے گیت گائے تھے
وہ منظر سے اوجھل ہوگئی ہیں
زمین کے سارے چہرے جل گئے ہیں

بند کھڑکیاں

تم کون ہو ؟
میرے ہم زبان ہو
کہ میرے ہم وطن ہو
مجھے محبت کے کسی رشتہ میں پرودو
میرے سرد ہاتھوں کو
اپنے ہاتھوں میں تھام لو
میرا چہرہ ابھی مٹا نہیں ہے
تم کون ہو؟
میرے ہم زبان ہو
تو محبت کا کوئی  نغمہ سکھاو
میرے ہم وطن ہو
تو میرے سر کی چھت کہ گراو
میرے ہم مذہب ہو
تو میرا خون تم پر حرام ہے
میں بند گلی میں پھنسا ہوں
اپنی کھڑکی تو کھولو
میرے لئے کوئی راستہ تو چھوڑو