Category Archives: نثری تحریریں

اعتراف

وہ سامنے کھڑی تھی، برقعہ اوڑھے اور حجاب پہنے ہوئے، مگر اس کا چہرہ کھلا ہوا تھا۔ ابھی و ہ کمسن تھی ، مگر اس کے ہونٹوں پر لگی گہری لپ اسٹک نے مجھے روک لیا

میں نے اپنے دل میں اس سے سوال کیا ، تم کیا چاھتی ہو؟ مگر اس سوال کے جواب میں ، اپنے معصوم ہاتھوں سے اس نے اپنی آنکھوں کو ڈھانپ لیا۔ وہ کوری تختی کی طرح بلکل صاف ، آنکھوں میں چھپے آنسووں کی طرح شفاف تھی ، حیران کردینے والے جذبات سے بہت دور، اپنے ہاتھوں میں تھامی ہوئی گڑیا کی طرح چپ!

میں اپنے راستے کی طرف آگے بڑھ گیا ، مگر ابھی تک میرے اندر مختلف جذبات کے درمیا ن سرد و گرم چل رہی تھی

اخبارات کی کئی سرخیاں ، کٹی پھٹی لاشوں کی صورت میرے سامنے گر رہی تھیں، اس سب لاشوں کے درمیاں اس بچی کی بھی لاش تھی، جو گھر سے چیز لانے کے لئے نکلی تھی تو ایک سیاہ ہاتھ نے اسے اندھیرے کی طرف دکھیل دیا ، خواہشوں کے بھوکے جنگل میں دور تک اس کے معصوم جسم کوگھسیٹا رہا ، یہاں تک کے اس کی آنکھوں میں روشن تمام ستارے ایک ایک کر کے بجھ گئے تو اس کےمعصوم بے روح جسم کو کانٹوں کی طرف اچھال دیا۔

دکھ اور درد سے بھر ے دل کے ساتھ آگے بڑھتے ہوئے میں سوچ رہا تھا اور اپنی بزدلی اور کمزروی کا شکر گزار تھا جس کے باعث میرے قدموں نے کبھی کسی پھول کو کچلنے کی جرات نہیں کی۔

وجود کا نیا چہرہ

لفظوں میں زندگی کو لکھنا غذاب ہے، لفظ ٹوٹ جائیں تو ان کے درمیان پر چھائیں تقسیم ہو جاتی ہیں، سورج کی روشنی جب مصلوب جسموں کو چھوتی ہے تو روشنی یا تو تمام مناظر کو اجاگر کردیتی ہے ورنہ بجھے ہوئے چراغوں سے اٹھتا ہوا دھواں افق کو سیاہ کردیتا ہے۔
میں گھر اور دیوار کے بیچ ایک سایہ ہوں، چمکتی روشنیوں کے لفظ مجھے زمین پر پھیلتے اور گم ہوتے سایوں کی طرح لکھتے ہیں اور مٹا دیتے ہیں، میری پھٹی ہوئی تصویر دیوار پر ٹھوک دی گئی ہے، کیلیں میرے ہونٹوں اور آنکھوں میں پیوست کر دی گئی ہیں، مگر میں کسی اجنبی دیوار کا اشتہار نہیں، اپنے ہی گھر کی مشرقی دیوار پر ایک ٹوٹی ہوئی زندگی کی عبارت ہوں، میں نے مٹے ہوئے لفظوں کو دوبارہ لکھنے کا گناہ کیا، اس دوران سرد و گرم دونوں ہی ذائقے میرے لہو میں شامل ہوئے، مگر آدمی کا مزاج تو کسی اور ہی آگ کی تلاش میں کوہ طور کا سفر کرتا ہے۔ ا پنے پیچھے میں نے بہت دھول اڑائی مگر زندگی کا کوئی بھی راستہ صاف نہ کر سکا۔ اب سفر کی اگلی منزلیں دھندلی دکھائی دیتی ہیں اور تھکن سے بدن ٹوٹ چکاہے، اب اپنے خوابوں کا بوجھ میں نہیں اٹھا سکتا کہ اگلی منزل تک بہتی دھوپ میں مجھے اپنے بے چہرہ وجود کے ساتھ سفر کر نا ہے۔
آئینے کی عمر ایک دھوکا ہوتی ہے، اس کی چمک جب میرے ہاتھوں پر سے اتری تو میں تنہاتھا ۔۔۔۔ تنہائی کا یہ لمحہ تاریک رات کی طرح ہولناک تھا، اس تنہائی میں انسان آوازوں کی گرفت میں کٹھ پتلی بن جاتا ہے، مگر کب تک ! وقت کے پگھلتے لمحوں کے درمیان جب فیصلے کی گھڑی آ پہنچتی ہے تو وہ اپنا ہاتھ مقابلے سے کھنیچ لیتا ہے مگر ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی اس کے وجود کو پھلانگ کر بہت آگے نکل جاتا ہے، آئنیے پر بنی تصویر نئے خال و خد میں ڈھل جاتی ہے یوں لگتا ہے کہ پردے کے پیچھے کوئی چھپا ہوا ہے ۔ ہر لمحے گھورتی ہوئی سیاہ آنکھیں اور پھر تھکا دینے والی کیفیت سے ڈر کر وہی انسان جو تازہ لمحے تراش رہاہوتا ہے، دھند کے اس پار ہمیشہ کے لئے کھو جاتا ہے۔
وقت کتنی کروٹیں لیتا ہے اس کا اندازہ ہمیں لوگوں کے متضاد رویوں سے ہوتا ہے، اس منظر میں کچھ لوگ اندھیرے کا کاٹ کر روشنی کے لئے راستہ بناتے ہیں۔ ساحل پر دوڑتے قدموں کی گرمی، فضا میں اڑتے پرندوں کا نغمہ،پہاڑوں پر پھیلی برف جیسی خاموشی اور دو دلوں کے درمیان ایک ناچتا ہوا مکالمہ انسانی محبت کی لازاول داستان ہے مگر اس کے باوجود غم والم ہماری زندگی کا جزو ہیں۔ اس لمحے جب زندگی کو ہم کسی اندھے کنوئیں میں دھکیلنا چاہتے ہیں تو کوئی تاریکی کو روشنی سے کاٹ دیتا ہے۔
اپنے وجود کو ایک نئے آغاز کے ساتھ لکھنا، زندگی کا نیا چہرہ بنانا ہے ۔۔۔۔ اس ہنر میں آدمی خود سے بیگانہ ہو جاتاہے، آج زمین پر پھولوں کی کیاریوں کی جگہ بارود کے ڈھیر لگا دیئےگئے ہیں۔ ہر آدمی جنگاری ڈھونڈ رہا ہے اور جس کے پاس شعلہ ہو گا وہی ہمارا نجات دھندہ ہو گا۔ جب زمین ایک عظیم دھماکے کے ساتھ دھواں بن کر کرہ آسمانی میں بکھر جائے گی !

پیاس کا سفر

وقت پر کوئی زنچیر نہیں ڈالی جاسکتی اور ہمارے چہرے راکھ ہوگئے ہیں۔ شاید کسی نئے جنم میں، کسی اجنبی دنیا میں ایک بار پھر ہم ملیں، مگر اس سے پہلے ہمیں اپنے جذبوں کی راکھ کو بکھرنے سے محفوظ رکھنا ہوگا۔ اڑتے پرندوں کے رنگین پروں پر نغمے لکھنے ہوں گے۔
جب کوئی سرحد یں مٹا دی جائیں گی تو وعدے پورے کرنے کی گھڑی آجائے گی۔ جب کوئی زنجیر وقت کو ، زبان کو اور گیتوں کو قید نہیں کرسکے گی۔
ہم راکھ میں ہاتھ کالے کرتے ہیں اور پھر ایک کرن پالیتے ہیں۔ کل چاند رات تھی ، ہم نے اپنے ہونٹ ملاکر چھوڑ دئیے تھے۔
آج اندھیرے میں دھوپ کھیل رہی ہے، جسموں کے اندر آگ جل رہی ہے۔ پھر ہمارے ہاتھ بھی جل جائیں گے اور ہر طرف آگ ناچے گی۔ ایک زمانے سے دوسرے زمانے تک، ایک جنم سے ہر جنم تک، ہماری پیاس سفر کرے گی۔
جب تک دھرتی کی گود میں درخت اگتے رہیں گے، ان کی بھری ہوئی جیبوں سے پھول گرتے رہیں گے اور چہروں پر چاند نکلے گا۔ ہم ان ہی موسموں میں جنم لیں گے۔
پہاڑوں کی اونچی چوٹیوں کو ہماری گونچتی آواز چھولے گی تو پھر کوئی نہیں روک سکے گا اور ہم اس دیوار کو ضرور ڈھونڈلیں گے جس کے سائے کی نرمی آج بھی ہمارے خوابوں میں تازہ ہے
وہ دیکھو ۔۔۔۔۔۔ !
آج نیا دن ہے اور آسمان پر کوئی سورج نہیں ۔۔۔۔ مگر ہم ایک دوسرے کو دیکھ سکتے ہیں۔ تمہارے جسم کا ریشم کہکشاں پر پھیلا ہوا ہے۔
وہ دیکھو ۔۔۔۔۔۔ !
ایک پرندہ اڑتا ہے، جس کے بازووں میں اس کی پر چھائیں ہے، پچھلے جنم میں ہر بار وہ اپنی ہی پرچھائیں سے ٹکراتا تھا۔
آج آزادی کی صبح ہے ۔۔۔۔۔ !
آسمان پر ہمارے ہاتھوں کا سورج ہے اور ہمارے سائے ہر قدم ہمارے ساتھ ہیں۔
اب ہمیں کسی بھی دوسرے جنم کا انتظار نہیں کہ ہم نے خواہشوں کی جنت اپنے ارادوں سے زمین کے دل میں اتار دی ہے۔
وہ وقت جو گزر گیا ہے ۔۔۔۔۔ !
اپنے چہرے پر ٹوٹی لکیریں لئے دفن ہو چکا ہے
وہ دیکھو ۔۔۔۔۔۔ !
قبر سے ایک پودا نکل رہا ہے۔/p>

ہم نوحہ گر ہیں

ہم نوحہ گر ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !
زمین پر بوچھ بڑھ گیا ہے، چمکتی روشنیوں کے پیچھے ہم سب کچھ نہیں چھپا سکتے، مگر دکھ تو آنسووں کے سیلاب میں بہتا جارہاہے۔
ہم نوحہ گر ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !
جب گولیوں کی آوازیں ہر طرف گونجتی ہیں ، تو آسمان پرندوں کی آوازوں سے خالی ہوجاتا ہے۔ وہ شہر جو سماجی و سیاسی شعور کا نمائندہ تھا۔ عفریتوں میں گر ا ہوا ہے۔زندگی کا غازہ ہر چہرے سے اتر گیا ہے، بڑھتے ہوئے سیلاب کے سامنے شہر کا وجود شکستہ دیئے کی طرح بجھ رہا ہے۔
ہم نوحہ گر ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !
کہ ہمارے گھر مقتل بنادیئے گئے ہیں، لوگ زندگی کا مول بھول چکے ہیں۔ ہماری آنکھیں پتھرا گئی ہیں ، ہم سیاہ آوازوں کو سن تو سکتے ہیں مگر کسی کو گرنے سے بچا نے کے لئے قدم آگے نہیں بڑھا سکتے۔ ہم کسی آسیب کی گرفت میں ہیں، اور منتظر ہیں کہ کوئی ایک ہاتھ ایسا بلند ہو جو سچ کا رفیق بن سکے، جو آئینے پر ٹھٹھرے ہوئے لہو رنگ منظر کو توڑ کر ہمیں آزاد کراسکے۔
ہم نوحہ گر ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !
کہ زندہ آوازیں شور سے الگ کردی گئی ہیں، کتنے ہی دروازوں پر خونخوار دستک ابھرتی ہے اور درندے زندگی کی کتا ب پھاڑ ڈالتے ہیں۔
ہم نوحہ گر ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !
کہ شہر کے سارے چہرے جل گئے ہیں، امن کے سارے دروازے توڑ ے جاچکے ہیں ۔ اورقاتل ہاتھ اپنی آزادیوں کا جشن منا رہے ہیں۔
ہم نوحہ گر ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !

تم سے گفتکو

ہم جس تناؤ سے گزر رہے ہیں، اس کے ختم ہوجانے کےامکانات معدوم ہوچکے ہیں۔ اس صورتحال کے باعث ساری فضا گدلاتی جارہی ہے۔ میں تمہیں اس کا ذمے دار نہیں سمجھتا۔ بہت سے واقعات عالم بالا سے یوں ظہور پذیر ہوتے ہیں کہ اگر ہم ان کے اسباب کو سمجھنا چاہیں تو شاید کچھ بھی نہ جان سکیں۔
عورت کی زندگی بالخصوص ان تمام تجربات کی گہری چھاپ ہوتی ہے جن سے وہ گزر رہی ہوتی ہے۔ مرد کے حوالے سے عورت اپنے وجود میں بہت خواب بنتی ہے، بہت سے موسموں کے پھولوں اورپھلوں کو سنبھل کر رکھتی ہے۔ آنے والے وقت کے اسرار و رموز کی بازیافت ہی اس کی زندگی کا بہت بڑا حوالہ ہوتی ہے۔
تم نے بھی یقینا وقت کے کتنے بڑے عرصے پر محیط، ان خوابوں کو دیکھا ہوگا۔ اپنے بدن کی خوبصورتی اور دل کی بے چینی کو کن کن پیرہنوں میں سمویا ہو گا۔ اور جب وہ مرد ان سارے ان کہے جذبوں اور خوابوں کو چھونے کے لئے آگے بڑھا ہوگا تو تم نے کس طرح اور کن جذبوں کی پرکھ پر اپنے سارے وجود کو سمیٹ کر دسترخوان کی صورت اس کے سامنے بچھا دیا ہوگا۔
مگر یہ تمہاری بد قسمتی تھی کہ اس لمحے کی کوکھ سے پیدا ہونے والا اعتبار جو دو جسموں کو ایک کردیتا ہے تو تم طوفان میں گھر گئیں۔ تمہارا وہ دکھ آ ج بھی ، جلتے ہوئے شعلے کی طرح ، میرے دل کو جلا رہا ہے۔ میں نے سوچا تھا میری محبت تم پر سے گزرے ہوئے طوفانون کے بعد باقی رہ جانے والے تباہ کاریوں کی ازسر نو تعمیر کرے گی۔ مگر تم تنہا تھیں، خلا کی طرف تکتی تمہاری آنکھیں خالی تھیں۔ میں نے تمہیں چھو کر جگا دینا چاھا تھا مگر آج یوں لگ رہا ہے کہ تم تو پتھر تھیں اور میرے ساری عبادتیں جو تمہیں دوبارہ زندگی کے مثبت چہرے سے جوڑنے کے لئے تھیں، رائگاں گئیں۔
وقت کے اس لمحے جب تاریکی ہمیں چھو کر مٹاتی جارہی ہے اور ہم اپنی شناخت کھوتے جارہے ہیں، کیا اب ہم نہیں سوچ رہے کہ ہمیں اس ساری صورت حال کی کتنی بھاری قیمت چکانی پڑے گی، میں نہیں چاہتا کہ ہماری زندگی کے آخری باب میں خسارہ ہی خسارہ لکھا جائے۔ اس لئے مردہ دل ہوجانے کے باوجود میرے چہرے پر زندگی کی روشنی اور لفظوں میں محبت کی خوشبو باقی رہ گئی ہے۔ میں چاھتا ہوں کہ محبت بھرے طلسمی ہاتھوں سے تمہیں چھو کر خود سے قریب کرلوں تاکہ وہ موسم اور خواب جو گزری بہاروں میں کچلے گئے تھے ، وہ حیات نو سے معمور ہو جائیں۔