زندہ لمس کی خواہش

شاید وہ کئی ٹکڑوں میں بانٹ دی گئی ہے
اندھیرے میں چمکتے سفید دانت او رسرخ زبان
جب اس کے وجود کے سونے میں اترتے ہیں
تو وہ ناپاک ہو جاتی ہے
دل سے دماغ تک
کئی جزیرے بپھری لہروں میں ڈوب جاتے ہیں
اور اسے ڈر لگتا ہے
وہ ہاتھ اونچے کرتی ہے
مگر ویرانے گھونگھٹ کاڑھے کھڑے ہیں
وہ اسے بھی
بنچر زمین میں بو دینا چاہتے ہیں
تاکہ اس کی ہڈیوں سے زرد موسم پھوٹ پڑیں
لہو کی سرخ گرمیاں جب ہونٹوں سے ٹپکتی ہیں
تو کوئی پرچھائیں اسے اندھیرے میں سمیٹ لیتی ہے
وہ اجلے آسمانوں کو چھونا چاہتی ہے
لیکن اس کے ہاتھ اس زندہ لمس کو بھی کھو دیتے ہیں
جہنوں نے اس کے ہمراہ خوابوں کی ویرانی سے
جلتی زمین تک سفر کیا ہے
شاید ہو کئی ٹکڑوں میں بانٹ دی گئی ہے

Spread the love

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Scroll to Top